گوجر قوم کی تاریخ

گوجروسط ایشیا کے قدیم ترین قبیلوں میں سے ایک اہم قبیلہ ہے جس کی تاریخ گزشتہ پانچ ہزار برسوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ گو جروں نے کئی صدیوں پر محیط اپنی شناخت کی جنگ لڑ تے لڑتے اس قبیلے نے بہت کچھ کھویا اور بہت کچھ حا صل کیا ہے ۔ گوجروں کے کئی اور نام ہیں جیسے گجر،گرجر، گرزر، گاوزر اور شاخیں جیسے کہ اجڑ، بکروال، دودھی، بنہارا وغیرہ مگر ہر ایک ذیلی شاخ کا شناختی ،سماجی اور ثقافتی تانا بانا ایسے بنا ہوا ہے کہ وہ اپنے اصل سے مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں۔ گوجروں کی بڑی آبادیاں اس وقت ہندوستان ، پاکستان اور افغانستان میں ہیں اورروزگار کے سلسلے میں یہ جفا کش لوگ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ہندوستان کی بارہ ریاستوں میں گوجرو ں کی قابل ذکر آبادی بو د و با ش کر رہی ہے ۔پاکستان کے سبھی صوبوں اور قبائلی علاقوں میں یہ لوگ آباد ہیں ۔افغانستان میں بھی گوجروں کی خاطر خواہ آبادیاں موجود ہیں ہندوستان میں ان کی موجودگی کے بارے میں اسکا لروں کے مابین الگ الگ آرا ء پائی جاتی ہیں۔ کچھ مورخین کاخیال ہے کہ یہ قبیلے درحقیقت ہندوستان کے قدیم ترین باسیوں میں سے ہیں جو بعد میں آنے والی نسلوں کے ساتھ مل گئے ہوں گے۔ جب کہ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ عرب ، ایران یا ترکی سے آئے ۔ زیادہ تر مورخین کے مطابق یہ لوگ جارجیہ یعنی گورجستان سے بھارت میں داخل ہوئے اور پورے شمالی ہند پر قبضہ جما لیا۔ تفصیل سے پڑھیں